27 اگست 2026 - 16:01
جنوبی لبنان کی سڑکوں پر موت کا سفر؛ ڈرائیور روزانہ اسرائیلی حملوں کے سائے میں

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں، مسافروں میں 90 فیصد سے زائد کمی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے خطرے نے جنوبی لبنان کے پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مگر جنگ کے باوجود وہ جنوبی علاقوں تک آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی لبنان میں شدید اسرائیلی فضائی حملوں کے خدشے، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مسافروں کی آمدورفت میں نمایاں کمی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور روزانہ جنوبی علاقوں تک سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ معاشی مشکلات اور جنگ کے خطرات نے ان کے لیے روزگار کو ایک انتہائی خطرناک جدوجہد بنا دیا ہے۔

الجزیرہ نیٹ کے مطابق، جنوبی لبنان بالخصوص نبطیہ، بنت جبیل اور سرحدی علاقوں کے قصبوں تک جانے والے راستوں پر سفر کرنے والے ڈرائیور ہر سفر کو ایک نئے خطرے سے تعبیر کرتے ہیں، جہاں کسی بھی وقت فضائی حملے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

جنوبی لبنان کے لیے اہم ٹرانسپورٹ مرکز سفارتِ کویت ٹرمینل سے مسافروں کی آمدورفت میں 90 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ نتیجتاً روزانہ یہاں سے روانہ ہونے والی وینوں کی تعداد تقریباً 70 سے کم ہو کر 12 رہ گئی ہے۔ باقی وینیں بھی مکمل گنجائش کے بجائے محدود مسافروں کے ساتھ روانہ ہوتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈرائیوروں کو روزگار کا موقع مل سکے۔

ہر سفر موت کا خطرہ

ابوعلی شعیّتو نامی بنت جبیل اور نبطیہ روٹ کے ایک ڈرائیور نے الجزیرہ نیٹ کو بتایا کہ موجودہ حالات میں گاڑی چلانا ایک خطرناک مہم بن چکا ہے، کیونکہ کسی کو یقین نہیں کہ وہ 100 میٹر بھی آگے جا سکے گا یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے دشمن کا سامنا ہے جس کے حملے کے مقام اور وقت کا کوئی اندازہ نہیں، اس لیے جنوبی لبنان میں کوئی علاقہ مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا۔

کئی ڈرائیوروں نے اس شعبے کی بھاری قیمت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بمباری کے دوران شہریوں اور بے گھر افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کی کوشش میں ان کے کئی ساتھی شہید ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نمیریہ الغربیہ کو نشانہ بنانے والے ایک حملے میں ایک ڈرائیور اپنے 19 رشتہ داروں سمیت شہید ہوا، جبکہ ایک اور ڈرائیور سڑکوں پر پھنسے شہریوں کو بچانے کی کوشش کے دوران ڈرون حملے کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔

ان خطرات کے باوجود ڈرائیور جنوبی لبنان کی سڑکوں اور وہاں کے عوام سے اپنے تعلق کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں۔

ڈرائیور حسین عسیلی کا کہنا ہے کہ انہیں ہر سڑک اور ہر گاؤں اپنا گھر محسوس ہوتا ہے اور مسافر بھی ان کے لیے خاندان کے افراد کی مانند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی سرزمین سے دور رہ کر زندگی بے معنی ہے اور موجودہ حالات انہیں گھروں میں بیٹھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، کیونکہ بہت سے شہریوں کو سفر کرنا پڑتا ہے اور انہیں بھی اپنے روزگار کی ضرورت ہے۔

ٹرانسپورٹ کا شعبہ دو طرفہ دباؤ میں

لبنان کی زمینی ٹرانسپورٹ یونینوں اور سنڈیکیٹس کے سربراہ بسام طلیس نے بتایا کہ جنوبی لبنان، بقاع اور بیروت کے جنوبی مضافات میں فوجی کشیدگی کے دوران حملوں کے اثرات ٹرانسپورٹ کے شعبے پر دو مرحلوں میں مرتب ہوئے۔

ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مجموعی طور پر ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوا، تاہم بعد میں مختلف روٹس کی صورتحال مختلف ہو گئی۔ لبؤہ، بیروت کے جنوبی مضافات اور صیدا کے روٹس تقریباً معمول پر آ گئے، جبکہ مرجعیون اور بنت جبیل جیسے سرحدی اور اگلی صف کے علاقوں میں آمدورفت مکمل طور پر رک گئی۔

بسام طلیس کے مطابق ٹرانسپورٹ کا شعبہ اس وقت دو طرفہ دباؤ میں ہے؛ ایک جانب ڈرائیوروں کی جان خطرے میں ہے اور دوسری جانب مسافروں کی سلامتی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزدور، کسان، طلبہ، سرکاری ملازمین اور فوجی اہلکار بھی پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں، اس لیے ڈرائیوروں اور مسافروں دونوں کی صورتحال ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

طلیس نے حکومت کی جانب سے مناسب تعاون اور تحفظ فراہم نہ کیے جانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مسلسل آنے والی حکومتوں نے ڈرائیوروں کی حمایت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے وعدوں اور معاہدوں پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ جنوبی لبنان کی اس اہم ٹرانسپورٹ گزرگاہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسے ذمہ دار حکام کی ضرورت ہے جو ڈرائیوروں اور شہریوں دونوں کے حقوق اور سلامتی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

ادھر اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے دیہات، قصبوں اور سڑکوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے اور اسی دوران بیروت اور تل ابیب کے درمیان براہِ راست مذاکرات بھی جاری ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha